بزعمِ خود دانشور، مصنف نما شے ہونے کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اور اگر آپ گمنام یا نو آموز ہیں تو یہ قیمت کئی گنا بڑھ جایا کرتی ہے۔ میٹر یا مواد کی تلاش میں ہر چیز پہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ سامنے آتا ہے اس کے وہ معانی بنتے ہیں۔ اچھے سیل مین کی طرح مواد کو مارکیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور ابتدائی مراحل پہ مارکیٹنگ کے لیے مواد کی موجودگی از بس ضروری ہے کہ ابھی لوگ آپ کا نام نہیں جانتے اور خریدار کے سامنے کچھ رکھنا بھی ہے۔ ہمارے پاس تحقیق سے زیادہ تنقید کے شائق آتے ہیں سو ان کو راغب کرنے کے واسطے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ورنہ ایک تنقید برائے تنقید پہ مشتمل تبصرہ ہی ہفتوں کی محنت پہ پانی پھیرنے کو کافی رہتا ہے۔ اور آنلائن دنیا میں ویسے بھی تبصرہ لینا جان جوکھم کا کام ہے۔ جتنا آسان ہمیں پڑھنا ہے اتنا ہی آسان ہم سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ہے۔ کوئی ایسی چیز جو قاری کو کلک نہ کر سکے، قاری کو ہفتوں دور رکھ سکتی ہے۔ اور قاری کے ذہن میں آپ کی بات اگر غلط جگہ کلک کر جائے تو یہ عرصہ مہینوں میں بدل جاتا ہے۔ کتاب یا اخبار کی مانند نہ قارئین کی آپشنز محدود ہیں کہ اب یہی میسر ہے اسے ہی پڑھو اور کتاب بند کرنے کے ایک طرف رکھنے کی نسبت بلاگ بند یا سکپ کرنا کافی آسان ہے۔
Wednesday, 29 June 2011
Saturday, 18 June 2011
تحریر
بزعمِ خود دانشور، مصنف نما شے ہونے کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اور اگر آپ گمنام یا نو آموز ہیں تو یہ قیمت کئی گنا بڑھ جایا کرتی ہے۔ میٹر یا مواد کی تلاش میں ہر چیز پہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ سامنے آتا ہے اس کے وہ معانی بنتے ہیں۔ اچھے سیل مین کی طرح مواد کو مارکیٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور ابتدائی مراحل پہ مارکیٹنگ کے لیے مواد کی موجودگی از بس ضروری ہے کہ ابھی لوگ آپ کا نام نہیں جانتے اور خریدار کے سامنے کچھ رکھنا بھی ہے۔ ہمارے پاس تحقیق سے زیادہ تنقید کے شائق آتے ہیں سو ان کو راغب کرنے کے واسطے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے ورنہ ایک تنقید برائے تنقید پہ مشتمل تبصرہ ہی ہفتوں کی محنت پہ پانی پھیرنے کو کافی رہتا ہے۔ اور آنلائن دنیا میں ویسے بھی تبصرہ لینا جان جوکھم کا کام ہے۔ جتنا آسان ہمیں پڑھنا ہے اتنا ہی آسان ہم سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ہے۔ کوئی ایسی چیز جو قاری کو کلک نہ کر سکے، قاری کو ہفتوں دور رکھ سکتی ہے۔ اور قاری کے ذہن میں آپ کی بات اگر غلط جگہ کلک کر جائے تو یہ عرصہ مہینوں میں بدل جاتا ہے۔ کتاب یا اخبار کی مانند نہ قارئین کی آپشنز محدود ہیں کہ اب یہی میسر ہے اسے ہی پڑھو اور کتاب بند کرنے کے ایک طرف رکھنے کی نسبت بلاگ بند یا سکپ کرنا کافی آسان ہے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)