Thursday, 7 July 2011
ٹھریر ایک اور سہی
ڈی جا وو، جسے ستم ظریف لوگو ں نے مستقبل کی یادوں کا بھی نام دیا ، معاشرے میں جتنا عام ہے اتنا ہی ہم اس کے بارے میں کم جانتے ہیں۔ ڈی جا وو فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’دیکھا ہوا‘‘۔ یہ اصطلاح اس عمل کے لئے سب سے پہلے ایک فرانسسی پیراسائیکولوجسٹ ایمل بائیریک نے اپنی کتاب "The Future of Psychic Sciences" میں استعمال کی جس کے بعد سے یہی نام زبان زد عام ہو گیا۔ ڈی جا وو اتنا عام ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق تمام آبادی کا کم از کم ایک تہائی حصہ زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ضرور کرتا ہے۔
Labels:
adab skan
اور دکھ ہمارے ساتھی ہوں
پھول بے رنگ ہوجاتے ہیں
کبھی خواب سارے مر جاتے ہیں
کبھی دل اداس ہوتا ہے
کبھی لوگ ناراض لگتے ہیں
نفع نقصان کا ہر اندیشہ
آپ ہی آپ مر جاتا ہے
نہ جیت کی کوئی خوشی ہوتی
نہ ہار کا کوئی ڈر باقی
تنہائی کا غلبہ ہوتا ہے
دل بھی مرنے لگتا ہے
وہ بس فرار چاہتا ہے
اور ایک ہی تمنا کرتا ہے
کاش کہ ایسی دنیا ہو
جہاں صرف تنہائی ہو
اور دکھ ہمارے ساتھی ہوں
لیکن
یہ سب وقتی باتیں ہیں
نہ خواب کبھی بھی مرتے ہیں
نہ دل مردہ ہوتا ہے
زندگی چلتی رہتی ہے
بس احساس بدلتے رہتے ہیں!
Subscribe to:
Comments (Atom)