اور دکھ ہمارے ساتھی ہوں
پھول بے رنگ ہوجاتے ہیں
کبھی خواب سارے مر جاتے ہیں
کبھی دل اداس ہوتا ہے
کبھی لوگ ناراض لگتے ہیں
نفع نقصان کا ہر اندیشہ
آپ ہی آپ مر جاتا ہے
نہ جیت کی کوئی خوشی ہوتی
نہ ہار کا کوئی ڈر باقی
تنہائی کا غلبہ ہوتا ہے
دل بھی مرنے لگتا ہے
وہ بس فرار چاہتا ہے
اور ایک ہی تمنا کرتا ہے
کاش کہ ایسی دنیا ہو
جہاں صرف تنہائی ہو
اور دکھ ہمارے ساتھی ہوں
لیکن
یہ سب وقتی باتیں ہیں
نہ خواب کبھی بھی مرتے ہیں
نہ دل مردہ ہوتا ہے
زندگی چلتی رہتی ہے
بس احساس بدلتے رہتے ہیں!
No comments:
Post a Comment